السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في جر الولاء. باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21521
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ خَيْبَرَ، فَرَأَى فِتْيَةً أَعْجَبَهُ ⦗٥١٧⦘ حَالُهُمْ، فَسَأَلَ عَنْهُمْ، فَقِيلَ: هُمْ مَوَالٍ لِبَنِي حَارِثَةَ، أُمُّهُمْ حُرَّةٌ مَوْلَاةٌ لِبَنِي حَارِثَةَ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهِمْ فَاشْتَرَاهُ فَأَعْتَقَهُ، فَاخْتَصَمَ هُوَ وَبَنُو حَارِثَةَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْوَلَاءِ، فَقَضَى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْوَلَاءِ لِبَنِي حَارِثَةَ، وَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْوَلَاءُ لَا يَجُرُّ " كَذَا قَالَ وَالرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ بِشَوَاهِدِهَا، وَمَرَاسِيلُ الزُّهْرِيِّ رَدِيئَةٌ..حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ خیبر آئے، انہوں نے ایک جوان کو دیکھا، اس کی حالت ان کو اچھی لگی، اس کے بارے میں سوال کیا تو بتایا گیا کہ یہ بنو حارثہ کا آزاد کردہ ہے، اس کی والدہ بھی بنو حارثہ کی آزاد کردہ ہے اور ان کا باپ غلام ہے، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے باپ کو خرید کر آزاد کر دیا۔ اب زبیر رضی اللہ عنہ اور بنو حارثہ کے درمیان جھگڑا چلا جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ولاء کے بارے میں آیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ بنو حارثہ کے حق میں دے دیا اور فرمایا کہ ولاء منتقل نہیں ہوتی۔