السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في جر الولاء. باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21522
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى فِي عَبْدٍ كَانَتْ تَحْتَهُ حُرَّةٌ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا فَعَتَقُوا بِعَتَاقَةِ أُمِّهِمْ، ثُمَّ أُعْتِقَ أَبُوهُمْ بَعْدُ، أَنَّ وَلَاءَهُمْ لِعَصَبَةِ أَبِيهِمْ،.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ہبیرہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کا فیصلہ فرمایا جس کے نکاح میں ایک آزاد عورت تھی، اس نے اولاد کو بھی جنم دیا، ان کی ماں کی آزادی کی وجہ سے ان کو آزاد کر دیا، پھر ان کا باپ آزاد کر دیا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان کی ولاء ان کے باپ کے عصبات کے لیے ہے۔“