السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في جر الولاء. باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ خَيْبَرَ، فَرَأَى فِتْيَةً لُعْسًا ظُرْفًا، فَأَعْجَبَهُ ظَرْفُهُمْ، فَسَأَلَ عَنْهُمْ، فَقِيلَ: هُمْ مَوَالٍ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أُمُّهُمْ حُرَّةٌ، مَوْلَاةٌ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ لِأَشْجَعَ لِبَعْضِ الْحُرْقَةِ، فَأَرْسَلَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاشْتَرَى أَبَاهُمْ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ قَالَ لِفِتْيَتِهِ: انْتَسِبُوا إِلِيَّ، فَإِنَّمَا أَنْتُمُ مَوَالِيَّ، فَقَالَ رَافِعٌ: بَلْ هُمْ مَوَالِيَّ، وُلِدُوا وَأُمُّهُمْ حُرَّةٌ، وَأَبُوهُمْ مَمْلُوكٌ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى بِوَلَائِهِمْ لِلزُّبَيْرِ. . هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِيَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعًا بِخِلَافِهِ..یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ خیبر تشریف لائے، انہوں نے ایک ذہین نوجوان دیکھا، اس کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا کہ یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ ہے۔ اس کی والدہ آزاد ہے، جو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی اور ان کا باپ قبیلہ اشجع کا غلام تھا، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے باپ کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر اس نوجوان سے کہا: ”اپنی آزادی کی نسبت میری طرف کرو، کیونکہ تم میرے آزاد کردہ ہو“، تو رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”بلکہ وہ میرے غلام ہیں، یہاں پیدا ہوئے، ان کی والدہ آزاد تھی، ان کا باپ غلام تھا“۔ وہ دونوں جھگڑا لے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔