السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في جر الولاء. باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21516
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ فَوَلَدَتْ لَهُ وَلَدًا، فَإِنَّهُ يَعْتِقُ بِعِتْقِ أُمِّهِ، وَوَلَاؤُهُ لِمَوَالِي أُمِّهِ، فَإِذَا أَعْتَقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ ". ⦗٥١٦⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ..حافظ ثناء اللہ
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، بچے کو بھی جنم دیا ہو، وہ بچہ اپنی ماں کی آزادی کے ساتھ ہی آزاد ہو جائے گا اور اس کی ولاء اس کی ماں کو آزاد کرنے والوں کے پاس ہو گی، جب اس کا باپ آزاد کر دیا گیا تو اس بچے کی ولاء پھر باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔