السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في جر الولاء. باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21517
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْمَمْلُوكُ الْحُرَّةَ فَوَلَدَتْ، فَوَلَدُهَا يُعْتَقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيَكُونُ وَلَاؤُهُمْ لِمَوْلَى أُمِّهِمْ، فَإِذَا أَعْتَقَ الْأَبُ جَرَّ الْوَلَاءَ ".حافظ ثناء اللہ
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب غلام آزاد عورت سے شادی کرے اور وہ بچے کو جنم دے، تو اولاد اپنی ماں کی آزادی کے ساتھ آزاد ہو جائے گی، ان بچوں کی ولاء ان کی ماں کو آزاد کرنے والوں کے پاس ہو گی، جب باپ آزاد کر دیا گیا تو ولاء باپ کو آزاد کرنے والوں کی طرف منتقل ہو جائے گی۔