السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : لا ترث النساء الولاء إلا من أعتقن، أو أعتق من أعتقن. باب: عورتیں ولاء کی وارث نہیں ہوتیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ خود کسی کو آزاد کریں، یا ان کا آزاد کردہ غلام کسی اور کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 21515
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " لَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنَ الْوَلَاءِ لِأَحَدٍ مِنْ أَقَارِبِهَا، وَلَا تَرِثُ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقَتْ هِيَ نَفْسُهَا، أَوْ مَنْ كَاتَبَتْ، فَعَتَقَ مِنْهَا، أَوْ وَلَاءَ مَوْلَى مَنْ أَعْتَقَتْ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی زناد فرماتے ہیں کہ مدینہ کے فقہاء کہتے ہیں کہ عورت اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے کسی کی ولاء کی وارث نہ ہوگی، وہ صرف اس کی ولاء کی وارث ہوگی جس کو اس نے بذاتِ خود آزاد کیا یا جس نے اس سے مکاتبت کر کے آزادی حاصل کی یا اس غلام کی ولاء جس کو اس نے آزاد کیا۔