السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : لا ترث النساء الولاء إلا من أعتقن، أو أعتق من أعتقن. باب: عورتیں ولاء کی وارث نہیں ہوتیں مگر صرف اس صورت میں جب وہ خود کسی کو آزاد کریں، یا ان کا آزاد کردہ غلام کسی اور کو آزاد کرے۔
حدیث نمبر: 21514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: " لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ شَيْئًا إِلَّا مَا كَاتَبَتْهُ أَوْ أَعْتَقَتْهُ، قَالَ يَزِيدُ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ: " لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ شَيْئًا إِلَّا مَا كَاتَبْنَ، أَوْ أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ، أَوْ جَرَّ وَلَاءَهُ مَنْ أَعْتَقْنَ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورتیں ولاء میں سے کسی چیز کی وارث نہیں ہوتیں، صرف اس کی جس سے انہوں نے مکاتبت کی یا اسے آزاد کر دیا۔
(ب) سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورتیں ولاء میں سے کسی چیز کی بھی وارث نہیں ہوتیں، مگر یہ کہ وہ مکاتبت کر لیں، یا آزاد کر دیں، یا وہ اسے آزاد کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا ہو، یا وہ ولاء کو منتقل کرے جس کو انہوں نے آزاد کیا۔