السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
حدیث نمبر: 21501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ⦗٥١٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيِّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ، وَنِعْمَةٌ، وَأَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنَ الْمُعْتِقِ ".حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کردہ غلام دینی بھائی ہے اور نعمت ہے۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ وراثت کا حق دار وہ ہے جو آزاد کرنے والے کا قریبی ہے۔“