السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
حدیث نمبر: 21500
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ ثَلَاثَةً، وَتَرَكَ مَوَالِيَ أَعْتَقَهُمْ هُوَ عَتَاقَةً، ثُمَّ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِيهِ هَلَكَا وَتَرَكَا وَلَدًا، قَالَ سَعِيدٌ: " يَرِثُ الْمَوَالِي الْبَاقِيَ مِنَ الثَّلَاثَةِ، فَإِذَا هَلَكَ فَوَلَدُهُ وَوَلَدَا إِخْوَتِهِ فِي الْمَوَالِي شَرْعًا سَوَاءٌ ". وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، يُؤَكِّدُ مَا مَضَى مِنَ الْآثَارِ..حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو خبر ملی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جو فوت ہو گیا اور اس نے تین بیٹے اور غلام چھوڑے، جن کو اس نے آزاد کر دیا تھا، پھر اس کی اولاد میں سے دو آدمی (یعنی بیٹے) فوت ہو گئے اور ایک بچہ چھوڑا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ باقی ماندہ (بیٹا) ان غلاموں کا وارث ہو گا، پھر جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی اولاد اور اس کے بھائیوں کی اولاد ان غلاموں میں شرعاً مشترک ہوں گے۔