السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ كُلَيْبٍ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، وَتَرَكَتْ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهَا ابْنُهَا وَزَوْجُهَا، ثُمَّ مَاتَ ابْنُهَا فَقَالَ وَرَثَةُ ابْنِهَا: لَنَا وَلَاءُ الْمَوَالِي، قَدْ كَانَ ابْنُهَا أَحْرَزَهُ، قَالَ الْجُهَنِيُّونَ: لَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّمَا هُمْ مَوَالِي صَاحِبَتِنَا، فَإِذَا مَاتَ وَلَدُهَا فَلَنَا وَلَاؤُهُمْ وَنَحْنُ نَرِثُهُمْ، فَقَضَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُهَنِيِّينَ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي..عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ ابان بن عثمان بن عفان رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس جہینہ اور بنو حارث بن خزرج کے گروہوں کا جھگڑا آگیا۔ جہینہ قبیلہ کی عورت بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص کے نکاح میں تھی، جس کا نام ابراہیم بن کلیب تھا، وہ عورت فوت ہوگئی۔ اس نے مال اور غلام چھوڑے تو اس کے ورثاء میں سے ایک بیٹا اور خاوند تھے۔ پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہوگیا تو اس کے بیٹے کے ورثاء نے کہا: غلاموں کی «الْوَلَاءُ» ”ولاء“ ہماری ہے، اس کے بیٹے نے اسے محفوظ کر لیا تھا۔ جہینی کہنے لگے: اس طرح نہیں، بلکہ یہ ہماری عورت کے آزاد کردہ غلام ہیں، جب اس کا بچہ فوت ہوگیا تو ان کی «الْوَلَاءُ» ”ولاء“ ہمارے لیے ہے، ہم ان کے وارث ہیں؛ تو ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے غلاموں کی ولاء کا فیصلہ جہینیوں کے حق میں کردیا۔