السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
حدیث نمبر: 21498
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أَعْتَقَتِ الْمَرْأَةُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً فَهَلَكَتْ وَتَرَكَتْ وَلَدًا ذَكَرًا فَوَلَاءُ ذَلِكَ الْمَوْلَى لِوَلَدِهَا مَا كَانُوا ذُكُورًا، فَإِذَا انْقَطَعَتِ الذُّكُورُ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى أَوْلِيَائِهَا ". وَقَالَ شُرَيْحٌ: " يَمْضِي الْوَلَاءُ عَلَى وَجْهِهِ كَمَا يَمْضِي الْمِيرَاثُ، وَلَكِنْ لَا يُورَّثُ الْوَلَاءَ أُنْثَى إِلَّا شَيْئًا أَعْتَقَتْهُ "..حافظ ثناء اللہ
شعبی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عورت غلام یا لونڈی کو آزاد کرے، پھر وہ (عورت) فوت ہو جائے اور نرینہ اولاد چھوڑے تو اس آزاد کردہ کی ولاء اس عورت کی اولاد کے لیے ہے جب تک وہ مذکر ہوں۔ جب مذکر اولاد ختم ہو جائے تو ولاء اس عورت کے اولیاء (عصبہ) کی طرف لوٹ جائے گی۔