السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
حدیث نمبر: 21497
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، وَزَيْدًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَخًا لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ وَأَخًا لِأَبِيهِ، فَجَعَلَا الْوَلَاءَ لِأَخِيهِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَإِنْ مَاتَ الْأَخُ مِنْ أَبٍ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ ".حافظ ثناء اللہ
نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ آدمی جس نے حقیقی اور باپ کی جانب سے بھائی کو چھوڑا تو ولاء کا فیصلہ حقیقی بھائی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر باپ کی جانب سے بھائی فوت ہو جائے تو ولاء کا تعلق پھر بھی حقیقی بھائی کے ساتھ ہی رہے گا۔