السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
حدیث نمبر: 21496
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، أنبأ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا، وَعَبْدَ اللهِ، وَزَيْدًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالُوا: " الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ ". وَرُوِيَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی، عبداللہ اور زید رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ولاء بڑے کی ہوتی ہے۔