السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من رأى الحلف مع البينة. باب: جس نے گواہ (دلیل) کے ساتھ قسم اٹھانے کو بھی ضروری سمجھا۔
حدیث نمبر: 21252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: " بَيِّنَةُ الطَّالِبِ عَلَى أَصْلِ حَقِّهِ بَرَاءَةُ أَهْلِ الْمَيِّتِ، إِنْ صَاحِبُهُمْ قَدْ أَدَّى يَمِينَ الطَّالِبِ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: لَقَدْ مَاتَ وَهَذَا الْحَقُّ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ نَقُولُ بِهِ فِي الدَّعْوَى إِذَا قَامَتْ عَلَى مَيِّتٍ أَوْ غَائِبٍ أَوْ طِفْلٍ أَوْ مَجْنُونٍ..حافظ ثناء اللہ
عامر رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ طلب کرنے والے کا اپنے اصلی حق پر گواہ طلب کرنا اور میت والوں کا اپنے صاحب کی برأت کا اظہار کرنا کہ «وَاللهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ» ”اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ وہ فوت ہوا، یہ حق اس کے ذمہ تھا اور ہم دعویٰ میں کہتے ہیں کہ جب میت یا غائب یا بچہ یا دیوانے پر گواہ قائم کیے جائیں۔