السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من رأى الحلف مع البينة. باب: جس نے گواہ (دلیل) کے ساتھ قسم اٹھانے کو بھی ضروری سمجھا۔
حدیث نمبر: 21251
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، أنبأ سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ ⦗٤٤٢⦘ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اسْتَحْلَفَ رَجُلًا مَعَ بَيِّنَةٍ، فَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُتْبَةَ: " لَا أَقْضِي لَكَ بِمَالٍ لَا تَحْلِفُ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
عون بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے گواہ کے ساتھ قسم کا مطالبہ کر دیا، اس نے قسم دینے سے انکار کر دیا، تو عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کہنے لگے: میں تیرے لیے مال کا فیصلہ نہ کروں گا، جب تک تو قسم نہ اٹھائے گا۔