السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: القافة ودعوى الولد. باب: قیافہ شناس اور بچے کی ولدیت کے دعوے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21253
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ يَقُولُ: قَالَ الْمُزَنِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أنبأ سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، قَالَ: أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَزَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، وَقَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے پاس آئے اور بہت زیادہ خوش تھے، آپ ﷺ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ نے قیافہ شناس مجزز مدلجی کو نہیں دیکھا؟ وہ ہمارے پاس آیا تو اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما اپنے اوپر چادر لیے ہوئے تھے، لیکن ان کے پاؤں ننگے تھے تو اس نے کہا: یہ قدم ایک دوسرے کے ہیں۔“