السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من رأى الحلف مع البينة. باب: جس نے گواہ (دلیل) کے ساتھ قسم اٹھانے کو بھی ضروری سمجھا۔
حدیث نمبر: 21250
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ: شَهِدْتُ شُرَيْحًا وَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ ادَّعَى أَحَدُهُمَا قِبَلَ الْآخَرِ دَابَّةً، وَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهَا دَابَّتُهُ أَنْتَجَهَا، فَسَأَلَهُ شُرَيْحٌ الْبَيِّنَةَ، فَجَاءَهُ بِثَمَانِيَةِ رَهْطٍ فَشَهِدُوا لَهُ، فَقَالَ الَّذِي فِيُ يَدِهِ الدَّابَّةُ: اسْتَحْلِفْهُ، فَقَالَ: احْلِفْ، فَقَالَ لَهُ: أَثْبَتُّ عِنْدَكَ بِثَمَانِيَةٍ مِنَ الشُّهُودِ فَقَالَ شُرَيْحٌ: " لَوْ أَثْبَتَّ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا شَاهِدًا مَا قَضَيْتُ لَكَ حَتَّى تَحْلِفَ ".حافظ ثناء اللہ
ابومالک اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا، دو آدمی ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر آئے کہ چوپائے نے اس کے پاس بچہ دیا ہے۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے گواہ کا مطالبہ کیا۔ وہ آٹھ لوگوں کے گروہ کو بطور گواہ لے آیا۔ جس کے قبضے میں جانور تھا وہ کہنے لگا: ان سے قسم کا مطالبہ کرو، تو قاضی نے ان سے قسم کا مطالبہ کیا۔ وہ کہنے لگا: دیکھو میں نے آٹھ گواہ پیش کر دیے ہیں، تو قاضی شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: جتنے مرضی گواہ پیش کر دو، جتنی دیر خود قسم نہ دو گے، آپ کے حق میں فیصلہ نہ کیا جائے گا۔