السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من رأى الحلف مع البينة. باب: جس نے گواہ (دلیل) کے ساتھ قسم اٹھانے کو بھی ضروری سمجھا۔
حدیث نمبر: 21249
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا هِشَامٌ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا ادَّعَى قِبَلَ رَجُلٍ حَقًّا، وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، فَاسْتَحْلَفَهُ شُرَيْحٌ، فَكَأَنَّهُ يَأْبَى الْيَمِينَ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: " بِئْسَ مَا تُثْنِي عَلَى شُهُودِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کی طرف سے حق کا مطالبہ کر دیا اور گواہ بھی پیش کر دیا تو قاضی کہنے لگے: تیرے گواہوں کی بری تعریف کی گئی ہے۔