السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الشاعر يمدح الناس بما ليس فيهم حتى يكون ذلك كثيرا ظاهرا كذبا محضا باب: وہ شاعر جو لوگوں کی ان خوبیوں سے تعریف کرے جو ان میں موجود نہیں یہاں تک کہ یہ کثرت سے ظاہر ہونے والا اور محض جھوٹ بن جائے۔
حدیث نمبر: 21135
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَبِيُ يَحْيَى الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَيْلَكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ "، مِرَارًا، " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا، وَاللهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا، أَحْسِبُهُ، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَاكَ كَذَا وَكَذَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس کسی کی مدح کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ ڈالی، جب لازماً تعریف کرنا ہی ہو تو وہ کہے: میں اس کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہوں اور اللہ اس کا محاسبہ کرنے والا ہے اور میں کسی کا تزکیہ اللہ کے سامنے نہیں کرنا چاہتا، وہ تو جانتا ہے کہ وہ اس طرح کا ہے۔“