السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الشاعر يمدح الناس بما ليس فيهم حتى يكون ذلك كثيرا ظاهرا كذبا محضا باب: وہ شاعر جو لوگوں کی ان خوبیوں سے تعریف کرے جو ان میں موجود نہیں یہاں تک کہ یہ کثرت سے ظاہر ہونے والا اور محض جھوٹ بن جائے۔
حدیث نمبر: 21134
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " رُدَّتْ شَهَادَتُهُ بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی وجہ سے اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " يَقُولُهُ مِرَارًا، إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَاكَ، وَحَسِيبُهُ اللهُ، وَلَا يُزَكِّ أَحَدٌ عَلَى اللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا تذکرہ نبی ﷺ کے پاس ہوا تو ایک آدمی نے اس کی اچھی تعریف کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی۔“ آپ ﷺ بار بار فرما رہے تھے: ”اگر ضروری تعریف کرنی ہے تو یہ کہہ دے: فلاں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے۔ اگر وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے گمان کیا ہے تو اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے، وہ کسی کا اللہ کے ہاں تزکیہ نہ کرے۔“