السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الشاعر يمدح الناس بما ليس فيهم حتى يكون ذلك كثيرا ظاهرا كذبا محضا باب: وہ شاعر جو لوگوں کی ان خوبیوں سے تعریف کرے جو ان میں موجود نہیں یہاں تک کہ یہ کثرت سے ظاہر ہونے والا اور محض جھوٹ بن جائے۔
حدیث نمبر: 21136
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ السَّكَنِيُّ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أَهْلَكْتُمْ "، أَوْ " قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو سنا جو دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے (اسے) ہلاک کر دیا“ یا (فرمایا:) ”تم نے اس آدمی کی کمر توڑ دی۔“