السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل العصبية باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ⦗٤٠٠⦘ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَائِذِ اللهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: " أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَرَ "، فَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ، فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي، فَأَبَى عَلَيَّ، وَتَحَرَّزَ مِنِّي بِدَارِهِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَيْكَ، فَقَالَ: " يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ "، ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَدِمَ، فَأَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ: أَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالُوا: لَا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ كُنْتُ أَظْلَمَ، مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ، فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي؟ "، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ.سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو وہ اپنے کپڑے کی ایک طرف پکڑے ہوئے تھے اور ان کے گھٹنے ظاہر ہو رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے اس صاحب کو کسی پریشانی نے گھیر رکھا ہے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سلام کیا اور کہنے لگے: میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان تنازع ہو گیا، میں نے جلد بازی کی۔ پھر وہ چلے گئے۔ میں نے ان سے معافی کا سوال کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور مجھ سے بچتے ہوئے گھر چلے گئے، میں آپ ﷺ کے پاس آ گیا ہوں۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”اللہ ابوبکر کی مغفرت فرمائے۔“ انہوں نے جواب دیا: پتہ نہیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ گئے تو نبی کریم ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ڈر محسوس ہوا تو وہ نبی کریم ﷺ کے گھٹنوں پر گر پڑے۔ دو مرتبہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھ سے ظلم ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ہے، تم نے کہا: جھوٹ کہتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ کہا اور اپنے مال و جان سے میری مدد کی۔ کیا تم میرے ساتھی کو چھوڑتے نہیں ہو؟“ یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمائی۔ اس لیے کہ وہ تکلیف نہ دیں گے۔