السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل العصبية باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْتُ أُرِيدُ الْغَابَةَ، فَسَمِعْتُ غُلَامًا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يَقُولُ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ وَفَزَارَةُ، قَالَ: فَصَعِدْتُ الثَّنِيَّةَ فَنَادَيْتُ: يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ أَسْعَى فِي آثَارِهِمْ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ أَعْجَلْنَاهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا لِسَقْيِهِمْ، قَالَ: " يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ، إِنَّ الْقَوْمَ غَطَفَانَ يُقْرَوْنَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ.سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگل کا ارادہ کیا، میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے سنا، وہ کہہ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: کس نے ان کو پکڑا ہے؟ اس نے کہا: قبیلہ غطفان اور فزارہ والوں نے۔ کہتے ہیں: میں بلند جگہ پر چڑھ گیا، میں نے آواز دی: «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» ”ہائے صبح کا حملہ، ہائے صبح کا حملہ۔“ پھر میں ان کے نشاناتِ قدم پر چل نکلا۔ پھر میں نے ان سے وہ اونٹنیاں چھین لیں اور نبی ﷺ اپنے صحابہ کی جماعت میں آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ پیاسے تھے، ہم نے ان کے بارے میں جلدی کی تاکہ وہ اپنے پانی پلانے کی جگہ تک چلے جائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن اکوع! خدا نے تم کو اقتدار دیا ہے درگزر سے کام لو، کیونکہ بنو غطفان مہمان نواز لوگ ہیں۔“