حدیث نمبر: 21096
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَعَلَ رَجُلٌ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَجَعَلَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ ذَلِكَ رَدَّ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ: " فَإِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَنْ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ قَعَدَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ مَظْلِمَةً فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَعَزَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَصْرَهُ ". رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ التَّرْغِيبِ فِي الْإِغْضَاءِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ تعجب فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ جب اس نے زیادہ باتیں کیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تو نبی ﷺ ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (آپ ﷺ کے) پیچھے چلے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور آپ ﷺ بیٹھے رہے، جب میں نے اس کا جواب دیا تو آپ ﷺ ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے ساتھ وہ (فرشتہ) تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا، جب تو نے جواب دیا تو شیطان بیٹھ گیا، اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔“ پھر فرمایا: ”اے ابوبکر! کسی بندے پر ظلم نہیں کیا جاتا لیکن وہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کر کے اسے عزت بخشتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21096
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»