حدیث نمبر: 21093
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَهْ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، ثنا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ، مَرَّتَيْنِ، قَالَ: " لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ "، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَ: " أَنَا رَسُولُ اللهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ أَوْ فَلَاةٍ فَضَّلَتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ "، قَالَ: قُلْتُ: اعْهَدْ إِلِيَّ، قَالَ: " لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا "، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً، قَالَ: " وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبْيَتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا (کہ لوگ اس کی بات کہتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں) میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے عرض کیا: ”«عَلَيْكَ السَّلَامُ» اے اللہ کے رسول!“ (دو مرتبہ)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«عَلَيْكَ السَّلَامُ» نہ کہو، کیونکہ یہ مردوں کا تحفہ ہے، تم «السَّلَامُ عَلَيْكَ» کہا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں، وہ ذات کہ اگر آپ کو کوئی مصیبت آئے اور آپ اس کو پکاریں تو وہ آپ کی پریشانی دور کر دیتا ہے، اور اگر قحط سالی آئے تو آپ اس سے دعا کریں تو وہ (سبزہ و غلہ) اگا دیتا ہے، اور اگر جنگل میں آپ کی سواری گم ہو جائے تو اس کو پکارو تو وہ تمہاری سواری لوٹا دیتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: مجھ سے عہد لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی کو گالی مت دینا۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے کسی آزاد، غلام، اونٹ یا بکری کو بھی گالی نہیں دی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کو حقیر نہ جاننا اور اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرنا، یہ بھی نیکی ہے، اور اپنے تہبند کو نصف پنڈلی تک اٹھائے رکھو، اگر تو اس سے انکار کرے تو ٹخنوں تک، اور چادر کو لٹکانے سے بچنا کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور اگر کوئی آدمی آپ کو گالی دے یا عار دلائے اس (عیب) کی وجہ سے جسے وہ آپ کے بارے میں جانتا ہے تو آپ اسے عار نہ دلائیں، اس کا وبال اس پر ہی ہوگا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21093
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»