السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20974
قَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: هَذِهِ النَّرْدُ مَيْسِرٌ، أَرَأَيْتَ الشِّطْرَنْجَ أَمَيْسِرٌ هِيَ؟ قَالَ الْقَاسِمُ: " كُلُّ مَا أَلْهَى عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهِيَ مَيْسِرٌ ".حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبید اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کہتے تھے کہ نرد میسرہ ہے، شطرنج کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ میسرہ ہے؟ تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہنے لگے: ”ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل کر دے، یہ میسرہ ہے۔“