السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20973
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: مَا الْمَيْسِرُ؟ فَقَالَ: " كُلُّ مَا أَلْهَى عَنْ ذِكْرِ اللهِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهِيَ مَيْسِرٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے پوچھا: میسر کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کر دے، وہ میسر ہے۔