السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما لا ينهى عنه من اللعب باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا رَامِيًا، فَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَدْعُونِي فَيَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا يَا خَالِدُ نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: تَعَالَ أُحَدِّثُكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ، فَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللهْوِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا ". ⦗٣٦٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مَزَيْدَ.ابو سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ خالد بن زید رحمہ اللہ نے مجھے بیان کیا کہ میں تیر انداز تھا تو عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مجھے بلایا کرتے تھے کہ: ”خالد! آؤ ہم تیر اندازی کریں۔“ ایک دن مجھے تاخیر ہوگئی تو وہ کہنے لگے: ”آؤ میں تمہیں وہ بات بیان کروں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بیان فرمائی تھی یا میں وہ بات کہوں جو رسول اللہ ﷺ نے کہی تھی۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین بندوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: تیر بنانے والا جس کا بھلائی کا ارادہ ہو، تیر اندازی کرنے والا اور تیر پکڑانے والا۔ تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا مجھے شہسواری سے زیادہ محبوب ہے۔ کھیل صرف تین طرح کے ہیں: اپنے گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے کھیلنا اور تیر اندازی کرنا۔ جس نے تیر اندازی سیکھ کر اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا، تو اس نے ایک نعمت کی ناشکری کی۔“