کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ التَّاجِرُ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ ح قَالَ: وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَصْدَقَ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے سچا شعر جو شعراء کہتے ہیں یہ ہے: خبردار! اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَنِينِ، ثنا ابْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَسْتُ مِنْ دَدٍ، وَلَا دَدٌ مِنِّي "، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ صَاحِبَ الْعَرَبِيَّةِ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: يَقُولُ: لَسْتُ مِنَ الْبَاطِلِ، وَلَا الْبَاطِلُ مِنِّي. قَالَ الشَّيْخُ: " وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ: الدَّدُ هُوَ اللَّعِبُ وَاللهْوُ، وَقِيلَ: عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں باطل سے نہیں اور باطل مجھ سے نہیں“۔ یہ معنی ابوعبیدہ نے بیان کیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوعبید قاسم بن سلام فرماتے ہیں کہ «الدَّدُ» سے مراد کھیل کود ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوعبید قاسم بن سلام فرماتے ہیں کہ «الدَّدُ» سے مراد کھیل کود ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو قَبِيلٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: " لَأَنْ أَعْبُدَ صَنَمًا يُعْبَدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَلْعَبَ بِذِي الْمَيْسِرِ "، أَوْ قَالَ: " الْقِنِّينُ "، قَالَ: وَهِيَ عِيدَانٌ كَانَ يُلْعَبُ فِيهَا فِي الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: بِذِي الْعَشَرَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں اس بت کی عبادت کروں جس کی جاہلیت میں عبادت کی جاتی تھی اس سے کہ میں جوا کھیلوں۔ یہ لکڑی ہوتی تھی جس کے ذریعے زمین پر کھیلا جاتا تھا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: " مَا أُبَالِي لَعِبْتُ بِالْكَبْلِ أَوْ تَوَضَّأْتُ بِدَمِ خِنْزِيرٍ، ⦗٣٦٧⦘ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کعبوں سے کھیلوں یا خنزیر کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کروں، ایک جیسا ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: مَرَّ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بِالْكِجَّةِ، وَكَانَتْ حُفَرًا فِيهَا حَطَبٌ يَلْعَبُونَ بِهَا، فَسَدَّهَا ابْنُ عُمَرَ وَنَهَاهُمْ عَنْهَا، قَالَ: فَمَا فُتِحَتْ إِلَّا بَعْدُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما کچھ لڑکوں کے پاس سے گزرے جو کجہ کے ساتھ کھیل رہے تھے، یہ گڑھے ہوتے تھے جن میں لکڑیاں ہوتی تھیں جن سے وہ کھیلتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بند کر دیا اور انہیں اس سے منع کر دیا، راوی کہتے ہیں: پھر وہ (گڑھے) بعد ہی میں کھولے گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: دَخَلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ بِهَذِهِ الشَّهَارَدَةِ فَكَسَرَهَا، قَالَ: وَسَمِعْتُ حَمَّادًا مَرَّةً يَقُولُ: كَسَرَهَا عَلَى رَأْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو وہ «أَرْبَعَةَ عَشَرَ» ”چودہ گٹیوں کے کھیل“ سے کھیل رہے تھے، انہوں نے اسے توڑ دیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حماد سے سنا کہ انہوں نے اسے سر کے اوپر رکھ کر توڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى بَنِيهِ عَنْ لَعِبِ الْأَرْبَعَ عَشَرَةَ، فَقِيلَ لَهُ: تَنْهَاهُمْ؟ قَالَ: " إِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَكْذِبُونَ ". وَرُوِّينَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَرِهَتْهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَمَنْ لَعِبَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا عَلَى الِاسْتِحْلَالِ لَهُ لَمْ تُرَدَّ شَهَادَتُهُ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَهَذَا لِلِاخْتِلَافِ فِيهِ، أَوْ فِي بَعْضِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو «الْأَرْبَعَ عَشَرَةَ» ”چودہ گٹیوں کے کھیل“ سے منع فرماتے۔ پوچھا: منع کیوں کرتے ہو؟ تو وہ فرمانے لگے کہ یہ قسمیں اٹھاتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتی تھیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص ان میں سے کسی چیز کو حلال سمجھتے ہوئے کھیلے اس کی شہادت رد نہ کی جائے گی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں یا اس کے بعض میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص ان میں سے کسی چیز کو حلال سمجھتے ہوئے کھیلے اس کی شہادت رد نہ کی جائے گی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں یا اس کے بعض میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ بَسَّامِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الصَّيْرَفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّرْدَشِيرِ، فَكَرِهَهُ وَقَالَ: " كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ بِالشَّهْارَدَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنْ غَفَلَ بِهِ عَنِ الصَّلَاةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى تَفُوتَهُ ثُمَّ يَعُودَ لَهُ حَتَّى تَفُوتَهُ رَدَدْنَا شَهَادَتَهُ عَلَى الِاسْتِخْفَافِ بِمَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
بسام بن عبداللہ صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر رحمہ اللہ سے نرد شیر کے بارے میں پوچھا تو وہ اس کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شہاردہ سے کھیلا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی وجہ سے غفلت زیادہ ہو جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس کی شہادت نماز کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے رد کی جائے گی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی وجہ سے غفلت زیادہ ہو جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس کی شہادت نماز کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے رد کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ⦗٣٦٨⦘ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن حبان، ابن محریز سے نقل فرماتے ہیں کہ کنانہ کا ایک آدمی جس کو مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام کے ایک آدمی کو جس کو ابو محمد کہہ کر بلایا جاتا ہے، سنا وہ کہتا ہے کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں کہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کو خبر دی تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ابو محمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو ان کو حقیر سمجھ کر ضائع نہ کرے گا، اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، اور جو ان نمازوں کو نہ پڑھے گا اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو عذاب دے اگر چاہے تو جنت میں داخل کر دے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: مَا الْمَيْسِرُ؟ فَقَالَ: " كُلُّ مَا أَلْهَى عَنْ ذِكْرِ اللهِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهِيَ مَيْسِرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے پوچھا: میسر کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کر دے، وہ میسر ہے۔
قَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: هَذِهِ النَّرْدُ مَيْسِرٌ، أَرَأَيْتَ الشِّطْرَنْجَ أَمَيْسِرٌ هِيَ؟ قَالَ الْقَاسِمُ: " كُلُّ مَا أَلْهَى عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهِيَ مَيْسِرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبید اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کہتے تھے کہ نرد میسرہ ہے، شطرنج کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ میسرہ ہے؟ تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہنے لگے: ”ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل کر دے، یہ میسرہ ہے۔“