السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ⦗٣٦٨⦘ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ".یحییٰ بن حبان، ابن محریز سے نقل فرماتے ہیں کہ کنانہ کا ایک آدمی جس کو مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام کے ایک آدمی کو جس کو ابو محمد کہہ کر بلایا جاتا ہے، سنا وہ کہتا ہے کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں کہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کو خبر دی تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ابو محمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو ان کو حقیر سمجھ کر ضائع نہ کرے گا، اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، اور جو ان نمازوں کو نہ پڑھے گا اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو عذاب دے اگر چاہے تو جنت میں داخل کر دے۔“