حدیث نمبر: 20971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ بَسَّامِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الصَّيْرَفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّرْدَشِيرِ، فَكَرِهَهُ وَقَالَ: " كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ بِالشَّهْارَدَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنْ غَفَلَ بِهِ عَنِ الصَّلَاةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى تَفُوتَهُ ثُمَّ يَعُودَ لَهُ حَتَّى تَفُوتَهُ رَدَدْنَا شَهَادَتَهُ عَلَى الِاسْتِخْفَافِ بِمَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ

بسام بن عبداللہ صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر رحمہ اللہ سے شطرنج کے بارے میں پوچھا تو وہ اس کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ علی بن حسین رحمہ اللہ کے گھر والے شہاردہ سے کھیلتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی وجہ سے غفلت زیادہ ہو جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس کی شہادت نماز کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے رد کی جائے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20971
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»