السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20970
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى بَنِيهِ عَنْ لَعِبِ الْأَرْبَعَ عَشَرَةَ، فَقِيلَ لَهُ: تَنْهَاهُمْ؟ قَالَ: " إِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَكْذِبُونَ ". وَرُوِّينَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَرِهَتْهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَمَنْ لَعِبَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا عَلَى الِاسْتِحْلَالِ لَهُ لَمْ تُرَدَّ شَهَادَتُهُ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَهَذَا لِلِاخْتِلَافِ فِيهِ، أَوْ فِي بَعْضِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو «الْأَرْبَعَ عَشَرَةَ» ”چودہ گٹیوں کے کھیل“ سے منع فرماتے۔ پوچھا: منع کیوں کرتے ہو؟ تو وہ فرمانے لگے کہ یہ قسمیں اٹھاتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتی تھیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص ان میں سے کسی چیز کو حلال سمجھتے ہوئے کھیلے اس کی شہادت رد نہ کی جائے گی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں یا اس کے بعض میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔