السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20969
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: دَخَلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ بِهَذِهِ الشَّهَارَدَةِ فَكَسَرَهَا، قَالَ: وَسَمِعْتُ حَمَّادًا مَرَّةً يَقُولُ: كَسَرَهَا عَلَى رَأْسِهِ.حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو وہ «أَرْبَعَةَ عَشَرَ» ”چودہ گٹیوں کے کھیل“ سے کھیل رہے تھے، انہوں نے اسے توڑ دیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حماد سے سنا کہ انہوں نے اسے سر کے اوپر رکھ کر توڑ دیا۔