السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20968
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: مَرَّ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بِالْكِجَّةِ، وَكَانَتْ حُفَرًا فِيهَا حَطَبٌ يَلْعَبُونَ بِهَا، فَسَدَّهَا ابْنُ عُمَرَ وَنَهَاهُمْ عَنْهَا، قَالَ: فَمَا فُتِحَتْ إِلَّا بَعْدُ.حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما دو بچوں کے پاس سے گزرے جو کجہ (بچوں کا کھیل جس میں کپڑے کی دھجی کو گند کی شکل بنا کر کھیلتے ہیں) کے ساتھ کھیل رہے تھے یعنی لکڑی میں سوراخ کر کے کھیلتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو روکا اور منع کر دیا، پھر اس کے بعد وہ نہیں کھیلے۔