السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20967
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: " مَا أُبَالِي لَعِبْتُ بِالْكَبْلِ أَوْ تَوَضَّأْتُ بِدَمِ خِنْزِيرٍ، ⦗٣٦٧⦘ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کعبوں سے کھیلوں یا خنزیر کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کروں، ایک جیسا ہے۔