السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20966
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو قَبِيلٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: " لَأَنْ أَعْبُدَ صَنَمًا يُعْبَدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَلْعَبَ بِذِي الْمَيْسِرِ "، أَوْ قَالَ: " الْقِنِّينُ "، قَالَ: وَهِيَ عِيدَانٌ كَانَ يُلْعَبُ فِيهَا فِي الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: بِذِي الْعَشَرَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں اس بت کی عبادت کروں جس کی جاہلیت میں عبادت کی جاتی تھی اس سے کہ میں جوا کھیلوں۔ یہ لکڑی ہوتی تھی جس کے ذریعے زمین پر کھیلا جاتا تھا۔