السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما تجوز به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی جائز قرار پائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ بْنَ سُرَيْجٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِسْحَاقَ الْقَاضِي يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُعْتَضِدِ، فَدَفَعَ إِلِيَّ كِتَابًا نَظَرْتُ فِيهِ، وَكَانَ قَدْ جَمَعَ لَهُ الرُّخَصَ مِنْ زَلَلِ الْعُلَمَاءِ، وَمَا احْتَجَّ بِهِ ⦗٣٥٧⦘ كُلٌّ مِنْهُمْ لِنَفْسِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مُصَنِّفُ هَذَا الْكِتَابِ زِنْدِيقٌ، فَقَالَ: أَلَمْ تَصِحَّ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ؟ قُلْتُ: " الْأَحَادِيثُ عَلَى مَا رُوِيَتْ، وَلَكِنَّ مَنْ أَبَاحَ الْمُسْكِرَ لَمْ يُبِحِ الْمُتْعَةَ، وَمَنْ أَبَاحَ الْمُتْعَةَ لَمْ يُبِحِ الْغِنَاءَ وَالْمُسْكِرَ، وَمَا مِنْ عَالِمٍ إِلَّا وَلَهُ زَلَّةٌ، وَمَنْ جَمَعَ زَلَلَ الْعُلَمَاءِ ثُمَّ أَخَذَ بِهَا ذَهَبَ دِينُهُ "، فَأَمَرَ الْمُعْتَضِدُ فَأُحْرِقَ ذَلِكَ الْكِتَابُ ".اسماعیل بن اسحاق قاضی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں معتضد کے پاس آیا، اس نے مجھے ایک کتاب دی، میں نے اس کو دیکھا تو اس میں علما کی لغزشیں اور جو ان کی ضروریات ہوتی ہیں ان کو جمع کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! اس کتاب کا مصنف زندیق ہے۔ وہ کہنے لگے: کیا یہ احادیث صحیح نہیں ہیں؟ میں نے کہا: احادیث اسی طرح روایت کی گئی ہیں لیکن جس نے نشہ آور چیز کو مباح کہا ہے وہ متعہ کو جائز نہیں خیال کرتا اور جو متعہ کو جائز خیال کرتا ہے وہ گانے اور نشہ آور چیز کو جائز خیال نہیں کرتا، ہر عالم سے لغزش ہو جاتی ہے اور جس نے علما کی لغزش کو جمع کیا، پھر اس پر عمل کیا، اس کا دین گیا؛ تو معتضد نے اس کتاب کو جلانے کا حکم دیا۔