السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما تجوز به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی جائز قرار پائے گی۔
حدیث نمبر: 20920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، مِنْ بَجِّ حُورَانَ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: " نَجْتَنِبُ أَوْ نَتْرُكُ مِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْعِرَاقِ خَمْسًا: وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ خَمْسًا، مِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْعِرَاقِ: شُرْبَ الْمُسْكِرِ، وَالْأَكْلَ فِي الْفَجْرِ فِي رَمَضَانَ، وَلَا جُمُعَةَ إِلَّا فِي سَبْعَةِ أَمْصَارٍ، وَتَأْخِيرَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى يَكُونَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ أَرْبَعَةَ أَمْثَالِهِ، وَالْفِرَارَ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ اسْتِمَاعَ الْمَلَاهِي، وَالْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، وَالْمُتْعَةَ بِالنِّسَاءِ، وَالدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَالدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ يَدًا بِيَدٍ، وَإِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ ".حافظ ثناء اللہ
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اہل عراق کی پانچ باتیں چھوڑتے ہیں: (۱) نشہ آور چیز کا پینا، (۲) رمضان میں فجر کے وقت کھانا، (۳) صرف سات شہروں میں جمعہ کا ہونا، (۴) عصر کی نماز کو تاخیر سے پڑھنا یہاں تک کہ اس کا سایہ چار مثل ہو جائے اور (۵) لڑائی سے بھاگ جانا۔
اہل حجاز کے قول: (۱) نمازوں کو بغیر عذر کے جمع کرنا، (۲) عورتوں سے متعہ کرنا، (۳) ایک درہم کے عوض دو درہم، ایک دینار کے عوض دو دینار نقد و نقد، (۴) عورتوں کی دبر میں آنا اور (۵) کھیل تماشے کو سننا۔