السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما تجوز به شهادة أهل الأهواء باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی جائز قرار پائے گی۔
حدیث نمبر: 20919
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى التِّنِّيسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: " يُتْرَكُ مِنْ قَوْلِ أَهْلِ مَكَّةَ: الْمُتْعَةُ وَالصَّرْفُ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: السَّمَاعُ وَإِتْيَانُ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الشَّامِ: الْجَبْرُ وَالطَّاعَةُ، وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْكُوفَةِ: النَّبِيذُ وَالسَّحُورُ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ابوسلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کا متعہ اور نقدی کے کاروبار والا قول چھوڑا جائے گا اور اہل مدینہ کا قول کہ عورتوں کی دبر میں آنا اور سماع کو چھوڑا جائے گا اور اہل شام کا قول کہ زبردستی اطاعت کروانا اور اہل کوفہ کا قول نبیذ اور بیدار رہنے کا قول چھوڑ دیا جائے گا۔