السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من قال: للقاضي أن يقضي بعلمه باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ "، وَإِنِّي وَاللهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْهَا شَيْئًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ.عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو روانہ کیا۔ وہ نبی ﷺ کی میراث کا سوال کر رہی تھیں جو اللہ نے ان کو مدینہ میں دی، یعنی فدک اور خیبر کا پانچواں حصہ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہمارا باقی ماندہ مال صدقہ ہوتا ہے۔ آلِ محمد صرف اس مال سے کھائیں گے۔“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس صدقہ میں ذرہ بھی تبدیلی نہ کروں گا جو نبی ﷺ کے دور میں تھا، ویسے ہی کروں گا جو نبی ﷺ کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف مال لوٹانے سے انکار کر دیا۔