السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : ما يفعل بشاهد الزور باب: جھوٹے گواہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20491
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَاهِدِ زُورٍ، فَوَقَفَهُ لِلنَّاسِ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ يَقُولُ: " هَذَا فُلَانٌ، يَشْهَدُ بِزُورٍ فَاعْرِفُوهُ "، ثُمَّ حَبَسَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ وَزَادَ فِيهِ: " فَجَلَدَهُ وَأَقَامَهُ لِلنَّاسِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جھوٹی گواہی دینے والے کو لایا گیا، انہوں نے اسے ایک دن رات تک لوگوں کے سامنے کھڑا رکھا اور فرماتے رہے: یہ جھوٹی گواہی دینے والا ہے اس کو پہچان لو، پھر اس کو قید کر دیتے۔