کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جھوٹے گواہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَاهِدِ زُورٍ، فَوَقَفَهُ لِلنَّاسِ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ يَقُولُ: " هَذَا فُلَانٌ، يَشْهَدُ بِزُورٍ فَاعْرِفُوهُ "، ثُمَّ حَبَسَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ وَزَادَ فِيهِ: " فَجَلَدَهُ وَأَقَامَهُ لِلنَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جھوٹی گواہی دینے والے کو لایا گیا، انہوں نے اسے ایک دن رات تک لوگوں کے سامنے کھڑا رکھا اور فرماتے رہے: یہ جھوٹی گواہی دینے والا ہے اس کو پہچان لو، پھر اس کو قید کر دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20491
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ ظَهَرَ عَلَى شَاهِدِ زُورٍ فَضَرَبَهُ أَحَدَ عَشَرَ سَوْطًا، ثُمَّ قَالَ: " لَا تَأْسِرُوا النَّاسَ بِشُهُودِ الزُّورِ، فَإِنَّا لَا نَقْبَلُ مِنَ الشُّهُودِ إِلَّا الْعَدْلَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹے گواہ کو گیارہ کوڑے لگائے، پھر فرمایا: جھوٹے گواہوں کے ذریعے لوگوں کو قید نہ کرو، کیونکہ ہم گواہوں میں سے صرف عادل کی گواہی قبول کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20492
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَعَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ضَرَبَ شَاهِدَ الزُّورِ أَرْبَعِينَ سَوْطًا، وَسَخَمَ وَجْهَهُ، وَطَافَ بِهِ بِالْمَدِينَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
مکحول اور عطیہ بن قیس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑے لگائے، چہرہ سیاہ کر کے مدینہ کا چکر لگوایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20493
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي كُورِ الشَّامِ فِي شَاهِدِ الزُّورِ: " أَنْ يُجْلَدَ أَرْبَعِينَ، وَيُحْلَقَ رَأْسُهُ، وَيُسْخَمَ وَجْهُهُ، وَيُطَافَ بِهِ، وَيُطَالَ حَبْسُهُ ". هَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ ضَعِيفَتَانِ وَمُنْقَطِعَتَانِ، وَالرِّوَايَتَانِ الْأُولَيَانِ مَوْصُولَتَانِ، إِلَّا أَنَّ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْحُدُودِ الْحَدِيثَ الثَّابِتَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُجْلَدْ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ ". وَالْأَخْذُ بِهِ أَوْلَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
مکحول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عمال کو شام کی بستیوں میں لکھا کہ جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑے لگائے جائیں، سر مونڈا جائے، منہ سیاہ کیا جائے، شہر کا چکر لگایا جائے اور لمبی مدت قید کیا جائے۔
(ب) سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس کوڑوں سے زیادہ صرف حدود اللہ میں لگائے جائیں۔“
یہ دونوں روایتیں ضعیف اور منقطع ہیں، اور پہلی دونوں روایتیں متصل ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک میں ایسا راوی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی، واللہ اعلم۔ اور ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ والی ثابت حدیث پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20494
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَامِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ يَقُولُ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا أَخَذَ شَاهِدَ زُورٍ بَعَثَ بِهِ إِلَى عَشِيرَتِهِ فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا شَاهِدُ زُورٍ فَاعْرِفُوهُ، وَعَرِّفُوهُ " ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ: هَلْ كَانَ فِيهِ ضَرْبٌ؟ قَالَ: لَا ". وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بھی جھوٹے گواہ کو پکڑتے تو اسے اس کے قبیلے کی طرف روانہ کرتے اور فرماتے: ”یہ جھوٹا گواہ ہے، تم اسے پہچان لو اور اس کی پہچان کراؤ۔“ پھر اس کا راستہ چھوڑ دیتے۔
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے علی بن حسین رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا اس میں مارنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20495
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ جَعْدِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ بِشَاهِدِ زُورٍ، فَنَزَعَ عِمَامَتَهُ وَخَفَقَهُ خَفَقَاتٍ، وَعَرَفَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
جعد بن ذکوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک جھوٹا گواہ لایا گیا، انہوں نے اس کی پگڑی اتاری، اسے چند ہلکی ضربیں لگائیں اور مسجد والوں نے اسے پہچان لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20496
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ: " أَنَّ شُرَيْحًا كَانَ يُؤْتَى بِشَاهِدِ الزُّورِ، فَيَطُوفُ بِهِ فِي أَهْلِ مَسْجِدِهِ وَسُوقِهِ فَيَقُولُ: " إِنَّا قَدْ زَيَّفْنَا شَهَادَةَ هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ حضرت ابو حصین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ کے پاس جھوٹا گواہ لایا جاتا تو وہ بازار اور مسجد کا چکر لگواتے اور فرماتے: ہم نے اس کی گواہی کو باطل قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20497
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»