السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : ما يفعل بشاهد الزور باب: جھوٹے گواہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20492
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ ظَهَرَ عَلَى شَاهِدِ زُورٍ فَضَرَبَهُ أَحَدَ عَشَرَ سَوْطًا، ثُمَّ قَالَ: " لَا تَأْسِرُوا النَّاسَ بِشُهُودِ الزُّورِ، فَإِنَّا لَا نَقْبَلُ مِنَ الشُّهُودِ إِلَّا الْعَدْلَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹے گواہ کو گیارہ کوڑے لگائے، پھر فرمایا: جھوٹے گواہوں کے ذریعے لوگوں کو قید نہ کرو، کیونکہ ہم گواہوں میں سے صرف عادل کی گواہی قبول کرتے ہیں۔