السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : من أجاز القضاء على الغائب باب: جس نے غائب شخص کے خلاف فیصلہ صادر کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 20490
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ يَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغَالِي بِهَا، ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ، فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَأَفْلَسَ، فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ أَنْ يُقَالَ: سَبَقَ الْحَاجَّ، أَلَا إِنَّهُ قَدِ ادَّانَ مُعْرِضًا، فَأَصْبَحَ قَدْ رِينَ بِهِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ، نَقْسِمُ مَالَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبدالرحمن بن دلاف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کا ایک آدمی سواری کے اونٹ مہنگے داموں خریدتا، پھر تیز چلتا اور حاجیوں سے آگے نکل جاتا۔ وہ مفلس ہو گیا۔ اس کا معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے فرمایا: اما بعد! اے لوگو! جہینہ کا اُسَیفِع اپنے دین اور امانت کے بدلے اس بات پر راضی ہو گیا کہ کہا جائے: وہ حاجیوں سے آگے نکل گیا۔ سنو! اس نے (ادائیگی کی) پروا کیے بغیر قرض لیا، تو وہ قرض میں ڈوب گیا۔ جس کا اس کے ذمہ قرض ہو، وہ صبح ہمارے پاس آئے۔ ہم اس کا مال اس کے قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیں گے۔