السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: التشديد في أخذ الرشوة، وفي إعطائها على إبطال حق باب: رشوت لینے اور کسی کا حق مارنے (باطل کرنے) کے لیے رشوت دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 20480
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٢٣٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنِ السُّحْتِ؟ فَقَالَ: " هِيَ الرِّشَا "، فَقَالَ: فِي الْحُكْمِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " ذَلِكَ الْكُفْرُ "، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] ".حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے «سُحْت» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ فیصلے میں رشوت دینا ہے اور فرمایا: یہ کفر ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ [سورة المائدة: 45] ”جو اللہ کی نازل شدہ کتاب کے ذریعے فیصلہ نہیں کرتا وہی ظالم لوگ ہیں۔“