السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: التشديد في أخذ الرشوة، وفي إعطائها على إبطال حق باب: رشوت لینے اور کسی کا حق مارنے (باطل کرنے) کے لیے رشوت دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 20481
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ السُّحْتِ، أَهُوَ رِشْوَةٌ فِي الْحُكْمِ؟ قَالَ: " لَا "، {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤]، وَ {الظَّالِمُونَ} [المائدة: ٤٥]، وَ {الْفَاسِقُونَ} [المائدة: ٤٧]، وَلَكِنَّ السُّحْتَ أَنْ يَسْتَعِينَكَ رَجُلٌ عَلَى مَظْلِمَةٍ فَيُهْدِيَ لَكَ فَتَقْبَلَهُ، فَذَلِكَ السُّحْتُ ".حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «السُّحْتُ» ”سحت“ کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ فیصلے میں رشوت ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ﴿جو اللہ کے نازل شدہ وحی کے ذریعے فیصلہ نہ کرے وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں﴾ [سورة المائدة: 44، 45، 47]، لیکن «السُّحْتُ» ”سحت“ یہ ہے کہ آدمی کسی کے ظلم پر استقامت کرے، پھر وہ آپ کو تحفہ دے اور آپ اس کو قبول کریں، یہ سحت ہے۔