السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: التشديد في أخذ الرشوة، وفي إعطائها على إبطال حق باب: رشوت لینے اور کسی کا حق مارنے (باطل کرنے) کے لیے رشوت دینے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 20479
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنِ السُّحْتِ؟ فَقَالَ: " الرِّشَا "، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْجَوْرِ فِي الْحُكْمِ، فَقَالَ: " ذَلِكَ الْكُفْرُ ".حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «السُّحْتُ» کے بارے میں سوال کیا تو فرمانے لگے: یہ رشوت ہے اور میں نے فیصلے میں ظلم کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: یہ کفر ہے۔