السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا يقبل منه هدية باب: قاضی اس (فریقِ مقدمہ) سے کوئی ہدیہ (تحفہ) قبول نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زِيَادٍ الْفُقَيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُهْدِي إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ سَنَةٍ فَخِذَ جَزُورٍ، قَالَ: فَجَاءَ يُخَاصِمُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَنَا قَضَاءً فَصْلًا كَمَا تَفْصِلُ الْفَخِذَ مِنَ الْجَزُورِ، قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَّالِهِ: " لَا تَقْبَلُوا الْهَدْيَ، فَإِنَّهَا رِشْوَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابوحریر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ہر سال اونٹ کی ران تحفہ میں دیتا، وہ جھگڑا لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہمارے درمیان فیصلہ کیجیے، جیسے اونٹ کی ران اونٹ سے جدا ہوتی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کی طرف لکھا کہ ہدیہ قبول نہ کرو؛ کیونکہ رشوت ہے۔