السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا يقبل منه هدية باب: قاضی اس (فریقِ مقدمہ) سے کوئی ہدیہ (تحفہ) قبول نہ کرے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا مَالِكٌ، قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ لِامْرَأَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ عُمَرُ فَرَآهُمَا، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ لَكِ هَاتَيْنِ؟ اشْتَرَيْتِهِمَا؟ أَخْبِرِينِي، وَلَا تَكْذِبِينِي "، قَالَتْ: بَعَثَ بِهِمَا إِلِيَّ فُلَانٌ، فَقَالَ: قَاتَلَ اللهُ فُلَانًا، إِذَا أَرَادَ حَاجَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْهَا مِنْ قِبَلِي أَتَانِي مِنْ قِبَلِ أَهْلِي فَاجْتَبَذَهُمَا اجْتِبَاذًا شَدِيدًا مِنْ تَحْتِ مَنْ كَانَ عَلَيْهِمَا جَالِسًا، فَخَرَجَ يَحْمِلُهُمَا، فَتَبِعَتْهُ جَارِيَتُهَا فَقَالَتْ: إِنَّ صُوفَهُمَا لَنَا، فَفَتَقَهُمَا، وَطَرَحَ إِلَيْهَا الصُّوفَ، وَخَرَجَ بِهِمَا، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا امْرَأَةً مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، وَأَعْطَى الْأُخْرَى امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ.امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمال میں سے تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی کو دو گدے تحفہ میں دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو انہیں دیکھا اور پوچھا: یہ دونوں تمہارے پاس کہاں سے آئے؟ کیا تم نے انہیں خریدا ہے؟ مجھے بتاؤ اور مجھ سے جھوٹ نہ بولنا۔ اس نے کہا: یہ مجھے فلاں نے بھیجے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فلاں کو اللہ ہلاک کرے! جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے اور میری جانب سے وہ کام نہیں کروا پاتا تو میرے گھر والوں کی جانب سے آتا ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ان لوگوں کے نیچے سے سختی سے کھینچ لیا جو ان پر بیٹھے ہوئے تھے اور انہیں اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ ان کی بیوی کی لونڈی ان کے پیچھے آئی اور کہنے لگی: ان کا اون ہمارا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں ادھیڑا، اون اس کی طرف پھینک دیا اور انہیں لے کر نکل گئے، پھر ایک مہاجر عورت کو اور دوسرا ایک انصاری عورت کو دے دیا۔