حدیث نمبر: 20475
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَمِلَ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَهُوَ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَأَنِّي أَرَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ، قَالَ: " وَمَا لَكَ "؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ، قَالَ: " وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " ⦗٢٣٤⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اے لوگو! جس نے ہمارا کوئی کام کیا، پھر اس نے ایک سوئی بھی چھپائی تو وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا۔“ ایک انصاری آدمی نے کہا، گویا کہ میں تو اس کو دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اپنا کام (واپس) قبول کیجیے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے آپ سے یہ بات سنی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات میں اب بھی کہتا ہوں، جو عامل بنے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ سب کچھ لے کر آئے، پھر اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رک جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20475
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1833»